نئی دہلی 4جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے بدھ کو حکم دیا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کابینہ کی صلاح ماننے کے پابند ہیں چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے الگ الگ لیکن اتفاق رائے والے فیصلہ میں کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر آئین کے آرٹیکل 239اے اے کے التزاموں کو چھوڑ کر دیگر ایشوز پر منتخب سرکار کی صلاح ماننے کیلئے پابند ہیں۔
جسٹس مشرا نے ساتھی جج جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی جانب سے فیصلہ پڑھاجبکہ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن نے اپنا اپنا فیصلہ الگ سے سنایا۔عدالت نے کہا کہ دہلی کی پوزیشن مکمل ریاست سے الگ ہے۔ اور لیفٹیننٹ گورنر لااینڈ آرڈر ،پولیس اور اراضی سے متعلق معاملوں کیلئے خاص طور سے ذمہ دار ہیں لیکن دیگر معاملوں میں انہیں کابینہ کی صلاح ماننی پڑے گی۔
آئینی بنچ نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کابینہ کے ہر ایک فیصلہ کو صدر جمہوریہ کے پاس نہیں بھیج سکتے۔عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو منتخب سرکار کے کام کاج میں رک خنہ نہیں ڈالنا چاہئے۔